نئی دہلی13اپریل (ایس او نیوز؍راست) آل انڈیا مسلم پرسنل لابورڈ کا ایک اعلی سطحی وفد بورڈ کے جنرل سکریٹری مولانا محمد ولی رحمانی صاحب کی قیادت میں آج شام چار بجے لا کمیشن آف انڈیا کے چیرمین جناب جسٹس بلبیر سنگھ چوہان سے ملا۔ اس وفد نے چیرمین لا کمیشن کے سامنے مسلم پرسنل لا بورڈ کی طرف سے ملک گیر پیمانے پر چلائی گئی دستخطی مہم کی تفصیلات کی کاپی پیش کیں جو شریعت کی حمایت میں ہیں اورمذہبی آزادی میں مداخلت کی کوششوں کے خلاف ہیں اوریونیفارم سول کوڈ کی مخالفت کرتے ہیں ۔ اس کی پوری تفصیلات فراہم کرنے کے لئے بورڈ کا یہ وفد ان سے ملا۔وفد نے لاء کمیشن کے سامنے واضح کیاکہ ہندوستان کا آئین اس ملک کے تمام مذاہب کو اپنے مذہبی معاملات میں عمل کرنے کی مکمل آزادی دیتا ہے اور یہ صاف طور پر کہا کہ مسلمان شرعی قوانین میں کوئی تبدیلی یا بدلاؤ نہیں چاہتے اور ہر حال میں شرعی قوانین کے ساتھ رہنا چاہتے ہیں اور یہ چاہتے ہیں کہ حکومت شرعی معاملات میں دخل اندازی نہ کرے۔ شرعی معاملات میں حکومت کی دراندازی ناقابل قبول ہے، مذہبی آزادی ہمارا آئینی حق ہے، اور یونیفارم سول کوڈ ہمیں کسی درجہ میں پسند نہیں۔ اس لئے آپ سے گذارش ہے کہ آپ ایسی کوئی سفارش نہ کریں جو مسلمانوں کے واضح آئینی حقوق کے خلاف ہو۔ ہمیں اپنے آئین اور قانون کی دفعات ۲۵؍۲۶؍ اور ۲۹؍کے تحت اپنے مسلک اور مذہب پر زندگی گزارنے کا پورا حق ہے۔ اس پرسربراہ لاء کمیشن جسٹس چوہان نے کہاکہ ہم رائے عامہ کے خلاف قانون سازی کامشورہ نہیں دیں گے۔

وفدمیں جماعت اسلامی ہند،جمیعۃ علمائے ہند،جمیعۃ اہل حدیث ،شیعہ اوربریلوی سمیت مختلف جماعتوں کے نمائندے موجودتھے اورخواتین بھی موجودتھیں۔جن میں جنرل سکریٹری بورڈمولانا محمد ولی رحمانی،سکریٹری بورڈمولانامحمد فضل الرحیم مجددی ،جنرل سکریٹری جمیعۃ علمائے ہندمولانا سید محمود اسعد مدنی ،مولانامحمد علی محسن تقوی ،اتحادملت کونسل کے سربراہ مولاناتوقیر احمد رضا خان، ڈاکٹر اسماء زہرہ ، نکہت پروین خان ، ممدوحہ ماجد ، ایم آر شمشادایڈوکیٹ ،مولانا عبدالوہاب خلجی ، ایڈووکیٹ نیاز فاروقی ،جماعت اسلامی ہندکے سکریٹری مولانا محمد احمد،ڈاکٹر سید قاسم رسول الیاس، ایڈووکیٹ شکیل احمد سید ،ڈاکٹر محمد وقارالدین لطیفی، احتشام رحمانی ، فہدعباسی موجودرہے۔بورڈنے سی ڈی کی تفصیلات بتاتے ہوئے کہاکہ پورے ملک کے تمام صوبوں سے 48347596دستخط اسکی حمایت میں موصول ہوئے جسمیں27356934 ہماری بہنوں نے اور 20990662 مردوں نے ان چیزوں کی حمایت میں دستخط کئے ہیں اور یونیفارم سول کوڈ کی مخالفت میں اپنی رائے ظاہر کی ہیں۔ اس وفد نے ان تمام دستخطی مہم کی تفصیلات کے ساتھ ایک ہارڈ ڈسک چیرمین لا کمیشن کو پیش کی۔